Hazara's Genocide
Hazara's Genocide

ہزارہ کمیونٹی عرصہ دراز سے ٹارگٹڈ کلنگ کا نشانہ بن رہی ہے۔ ذیادہ تر تجزیہ کار اسے مذہبی لڑائی کا نام دے کر اپنے کھوکھلے تجزیئے پیش کر دیتے ہیں۔ اور معاملے کی جڑ تک نہیں پہنچ پاتے۔ کسی بھی مسئلے کو اگر ٹھیک سے نہ سمجھا جائے تو اسے حل کرنا تقریبا نا ممکن ہوتا ہے۔ اگر غور سے سارے معاملے کی چھان بین کی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کے ہزارہ برادری کی ٹارگٹڈ کلنگ کے پیچھے مذہب نہیں بلکہ ممکنہ طور پر نسلی لڑائیا یا انڈیا کی دھشتگردی یا زینوفوبیا ہیں۔
‏ سب سے پہلے اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کے ہزارہ برادری کے قتل عام کی وجہ مذہب نہیں ہے۔ اگر ہزاروں کے شیعہ ہونے کی وجہ سے ان پر حملے ہو رہے ہیں تو ایسا صرف ہزاروں کے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے۔ پاکستان میں اور بھی بہت سی جگہیں ہیں جہاں شیعہ سنی اکھٹے رہتے ہیں لیکن اس طرح کے واقعات وہاں رونما نہیں ہوتے۔ ایسا صرف ہزارہ برادری کے ساتھ ہی کیون ہوتا ہے۔ خیبر، بلوچستان اور سندھ میں بہت سے نسلی گروہ شیعہ ہیں جو اپنے عقیدے کے اظہار میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے اور نا ہی ان پر آئے روز حملے ہوتے ہیں۔ ایسا صرف ہزاروں کے ساتھ ہونا اس حقیقت کی عکاسی ہے کے ہزاروں کے قتل عام کی وجہ مذہبی فرقہ واریت نہیں ہے

‏ ہزاروں پر حملوں کی ممکنہ وجہ نسلی اختلافات ہو سکتے ہیں۔ہزارہ نسل بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں افغانستان سے ہجرت کر کے پاکستان میں آباد ہوئ۔ ہزارے ترک اور منگول قوم کا ملاپ سمجھے جاتے ہیں کیونکہ انکے چہرے مہرے اور قدوقامت دونوں اقوم سے مماثلت رکھتے ہیں۔ ایک الگ نسل ہونے کے باعث ان کے رسم و رواج افغانستان میں موجود باقی قوموں ،خاص کر پختونوں، سے میل نہیں کھاتے۔ اس وجہ سے ہزاروں کا باقی اقوام کے ساتھ اختلاف ایک فطری بات تھی۔ چنانچہ، ماضی میں پشتونوں اور ہزاروں کے درمیان افغانستان میں کئی جنگیں ہوئیں۔ امیر عبدالرحمان کے زمانے میں ہزاروں کو بہت بڑی شکست ہوئی اور وہ افغانستان سے جان بچا کر بلوچستان میں ہجرت کر گئے۔ اس پرانی دشمنی میں ابھی بھی حرارت باقی ہے اور خیبر اور بلوچستان مین موجود پختون دل سے ہزاروں کو اچھا نہیں سمجھتے۔ دبی دبی نفرت کی چنگاریاں کسی بھی وقت آگ لگا دیتی ہین اور لڑائ شروع ہو جاتی ہے۔ اپنی عددی قوت اور وسائل کم ہونے کے باعث اکثر ہزاروں کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
‏ اسکے علاوہ انڈیا کا اس سارے معاملے میں ملوث ہونا بھی خارج از امکان نہیں۔ بھارت پاکستان کا ازلی اور ابدی دشمن ہے۔ پاکستان میں آگ لگانے اور افرا تفری پھیلانے کا کوئ موقع یہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ عین ممکن ہے کے بھارتی ایجنسیاں پاکستان کو ایک غیر محفوظ ملک ثابت کرنے کے لیئے ہزاروں کے قتل عام میں ملوث ہوں۔ یورپین ڈس انفو لیب کے حالیہ انکشافات نے یہ واضح کر دیا ہے کے انڈیا پاکستان کو بدنام کرنے اور اس کی شہرت داغدار کرنے کے لیئے ہر قسم کے ہتھکنڈے آزما رہا ہے۔ ممکن ہے ہزاروں کا قتل کر کے انڈین ایجنسیاں اور ان کے علیحدگی پسند بلوچ ہمنوا پاکستان میں مذہبی فرقہ واریت کو ہوا دینا چاہتے ہوں۔
‏ ہزاروں پر حملوں کی ایک اور ممکنہ وجہ زینو فوبیا بھی ہو سکتا ہے۔ ہزارے بلو چستان کے مقامی باشندے نہیں ہیں۔ وہ افغانستان سے بلوچستان میں ہجرت کر کے آباد ہوئے۔ اورتب سے اب تک مقامی لوگوں میں گھلنے ملنے کی بجائے اپنے الگ تشخص کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ عادتا یہ باقی اقوم کی نسبت زیادہ محنتی اور کاروباری ہیں۔ اسی وجہ سے معاشی طور پر باقی اقوم سے زیادہ خوشحال ہیں اس لیئے باقی قوموں میں ان کے خلاف ڈر (کہ ہزارے آہستہ آہستہ ہمارے وسائل پر قابض ہو رہے ہیں) کا پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ اس طرح کا ڈر کسی بھی وقت دشمنی میں بدل جاتا ہے۔
‏ اگر سارے امکانات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہے کے ہزاروں کے اوپر ہونے والے حملوں کے پیچھے وجہ مذہبی اختلافات نہیں ہیں۔ اس کی وجوہات خالص سیاسی اور نسلی ہیں۔ پھر بھی ایک خاص قسم کی لابی اسے مذہبی رنگ دینے پر مصر ہے۔ اس قتل عام کی وجہ کچھ بھی ہو، ظلم تو بحر حال ظلم ہی ہے۔ حکومت، سکیورٹی اراروں اور انسانیت کا درد رکھنے والے لوگوں کو چاہئے کے سر جوڑ کر بیٹھیں اور اس مسئلے کا مکمل اور دیر پا حل نکالیں جو سب کے لیئے قابل قبول ہو۔ یہ اہل اقتدار کی زمہ داری ہے کے پاکستان کو پاکستانیوں کے لیئے ایک محفوظ ملک بنائیں۔

Author: Rana Amir Iqbal

Disclaimer:
-Writer’s view may not necessarily reflect views of the Moderate Thoughts Research Center.

364 COMMENTS

  1. 708248 917430Its a shame you dont have a donate button! Id most certainly donate to this outstanding internet site! I suppose within the meantime ill be happy with bookmarking and putting your Rss feed to my Google account. I appear forward to fresh updates and will share this blog with my Facebook group: ) 382273

  2. [url=http://tadalafil.forsale/]tadalafil online sale[/url] [url=http://ibuyivermectin.com/]cost of ivermectin 3mg tablets[/url] [url=http://cialisfor.sale/]buy cialis on line without prescription[/url] [url=http://tadalafilqtab.com/]canadian pharmacy tadalafil 20mg[/url] [url=http://sildenafilfor.sale/]sildenafil tablet price[/url] [url=http://sildenafil.doctor/]can i buy sildenafil over the counter[/url] [url=http://cialisymed.com/]cialis singapore[/url] [url=http://viagramtabs.com/]lowest price viagra 100mg[/url] [url=http://pharmacyten.com/]rx pharmacy no prescription[/url] [url=http://sildenafilcitabs.com/]online viagra cost[/url]

  3. I’ll right away take hold of your rss feed as I can’t find your email subscription hyperlink or e-newsletter service. Do you have any? Please permit me know in order that I may subscribe. Thanks.

  4. Hello! This post could not be written any better! Reading through this post reminds me of my good old room mate! He always kept talking about this. I will forward this page to him. Fairly certain he will have a good read. Thanks for sharing!|

  5. Heya just wanted to give you a quick heads up and let you know a few of the images aren’t loading properly. I’m not sure why but I think its a linking issue. I’ve tried it in two different browsers and both show the same results.|

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here